ایشیا کپ کے پہلے سپر فور میں انڈیا اور پاکستان کے


درمیان ٹکراؤ سے بڑی سنسنی اور کیا ہو سکتی ہے، اسی لیے کرکٹ شائقین کی نظریں چار ستمبر کو دوبئی میں ہونے والے اس میچ پر لگی ہوئی ہیں۔

اتوار کو انڈیا نے پاکستان کو شکست دی۔ اس شکست کے بعد پاکستان کو کسی بھی قیمت پر ہانگ کانگ کے خلاف اپنا میچ جیتنا تھا۔ ہانگ کانگ کے خلاف سست آغاز کے باوجود پاکستان کی ٹیم محمد رضوان اور فخر زمان کی نصف سنچریوں کی بدولت 193 رنز تک


پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

گرمی اور نمی میں رضوان نے وکٹ پر 78 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ دوسرے سرے پر زمان نے ان کا خوب ساتھ دیا۔دو وکٹوں پر 193 رنز بنانے کے بعد، پاکستان کے سپن بالرز شاداب خان اور محمد نواز نے آپس میں سات وکٹیں بانٹ کر ہانگ کانگ کو صرف 38 رنز پر ڈھیر کردیا۔ ہانگ کانگ نے انڈیا کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی تھی لیکن ان کی ٹیم


پاکستان کے سامنے پوری طرح ڈھیر ہو گئی۔

ہانگ کانگ کے خلاف 155 رنز کی جیت کے بعد پاکستانی ٹیم کے حوصلے انڈیا کے سامنے بلند ہیں اور ٹیم کا ارادہ پچھلی شکست کا حساب چکانے کا ہو گا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے کسی بھی میچ کو لے کر شائقین کرکٹ میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان 2012-13 کے بعد کوئی باہمی سیریز نہیں ہوئی بلکہ فقط آئی سی سی ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیموں کے درمیان ایک میچ ہوا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل جب ایشیا کپ کا اعلان کیا گیا تو توقع کی جارہی تھی کہ دونوں ٹیمیں زیادہ سے زیادہ تین بار ٹکرائیں گی۔

دوسرے میچ کے بعد بہت ممکن ہے کہ دونوں ٹیمیں فائنل میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں۔ گروپ اے میں انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں سرفہرست ہیں جبکہ گروپ بی سے سری لنکا اور افغانستان کی ٹیمیں سپر فور میں جگہ بنا چکی ہیں۔